829 - حَدَّثَنَا الْقَاضِى الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو الأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو ذَرٍّ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِى بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِىُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ الْكَاتِبُ أَخْبَرَنِى ابْنُ أَبِى مُلَيْكَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِى حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ فَلَبِثَتْ زَمَانًا لاَ تُصَلِّى فَأَتَتْ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رضى الله عنها فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ خَافَتْ أَنْ تَكُونَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَلاَ يَكُونَ لَهَا فِى الإِسْلاَمِ حَظٌّ أَلْبَثُ زَمَانًا لاَ أَقْدِرُ عَلَى صَلاَةٍ مِنَ الدَّمِ. فَقَالَتْ لَهَا امْكُثِى حَتَّى يَدْخُلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَتَسْأَلِينَهُ عَمَّا سَأَلْتِنِى عَنْهُ فَدَخَلَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِى حُبَيْشٍ ذَكَرَتْ أَنَّهَا تُسْتَحَاضُ وَتَلْبَثُ الزَّمَانَ لاَ تَقْدِرُ عَلَى الصَّلاَةِ وَتَخَافُ أَنْ تَكُونَ قَدْ كَفَرَتْ أَوْ لَيْسَ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ فِى الإِسْلاَمِ حَظٌّ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « قُولِى لِفَاطِمَةَ تُمْسِكُ فِى كُلِّ شَهْرٍ عَنِ الصَّلاَةِ عَدَدَ قُرْئِهَا فَإِذَا مَضَتْ تِلْكَ الأَيَّامُ فَلْتَغْتَسِلْ غَسْلَةً وَاحِدَةً تَسْتَدْخِلُ وَتُنَظِّفُ وَتَسْتَثْفِرُ ثُمَّ الطُّهُورُ عِنْدَ كُلِّ صَلاَةٍ وَتُصَلِّى فَإِنَّ الَّذِى أَصَابَهَا رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوْ عِرْقٌ انْقَطَعَ أَوْ دَاءٌ عَرَضَ لَهَا ».
قَالَ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ فَسَأَلْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ فَأَخْبَرَنِى بِنَحْوِهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ. وَقَالَ أَبُو الأَشْعَثِ فِى الإِسْنَادِ أَخْبَرَنِى ابْنُ أَبِى مُلَيْكَةَ أَنَّ خَالَتَهُ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِى حُبَيْشٍ.
829 ۔ ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ بنت ابی حبیش (رض) کو استحاضہ کی شکایت ہوئی انھوں نے اتنے عرصے سے نماز ادا نہیں کی ، وہ سیدہ عائشہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور بولی، اے ام المومنین مجھے یہ اندیشہ ہے میں جہنمی نہ ہوجاؤں اور ان کا اسلام میں کوئی حصہ نہ رہے ایک بڑا عرصہ گزرچکا ہے جس میں میں نے نماز نہیں پڑھی مجھے استحاضہ کا خون خارج ہوتا ہے ، سیدہ عائشہ نے کہا تم ٹھہر جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو آپ سے اس طرح دریافت کرنا جس طرح مجھ سے ذکر کیا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو سیدہ عائشہ صدیقہ نے عرض کی یارسول اللہ یہ فاطمہ بنت ابوحبیش ہے اس نے مجھ سے ذکر کیا ہے اس کو استحاضہ کی شکایت ہے اور یہ کافی عرصے سے نماز اد ا کرنے پر قادر نہیں ہوسکی اسے یہ اندیشہ ہے کہیں یہ کافر نہ ہوجائے یا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہ رہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم فاطمہ سے کہو کہ وہ ہر مہینے میں اپنے حیض کے مخصوص ایام کے دوران نماز کو ترک کردے جب وہ مخصوص ایام گزرجائیں تو وہ ایک مرتبہ غسل کرکے اپنی شرمگاہ پر روئی رکھ کر اس پر ایک چوڑی پٹی باندھ لے تاکہ (خون باہر نہ نکلے ) پھر ہر نماز کے لیے وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرے۔ اسے جو چیز لاحق ہوئی ہے وہ شیطان کا ٹھونگا ہے یا کوئی رگ ہے جو منقطع ہوگئی ہے یا کوئی بیماری ہے جو اسے لاحق ہوگئی ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔