96 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْجَبَّارِ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ بِشَاةٍ مَيْتَةٍ فَقَالَ « مَا هَذِهِ ». قَالُوا أُعْطِيَتْهَا مَوْلاَةٌ لِمَيْمُونَةَ مِنَ الصَّدَقَةِ قَالَ « أَفَلاَ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ فَانْتَفَعُوا بِهِ ». قَالُوا إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ « إِنَّمَا حَرُمَ مِنَ الْمَيْتَةِ أَكْلُهَا ».
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، آپ نے دریافت کیا : یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے بتایا ہے : یہ سیدہ میمونہ (رض) کی کنیز کو صدقے کے طور پر دی گئی تھی، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں نے اس کی کھال اتار کر اس کو دباغت کرکے اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا ، لوگوں نے عرض کی : یہ مردار ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : مردار کو کھانا حرام ہے۔