97 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزَ إِمْلاَءً وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَقُرِئَ عَلَى ابْنِ صَاعِدٍ وَأَنَا أَسْمَعُ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عُتْبَةَ الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِىُّ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- مَرَّ بِشَاةٍ دَاجِنٍ لِبَعْضِ أَهْلِهِ قَدْ نَفَقَتْ فَقَالَ « أَلاَّ اسْتَمْتَعْتُمْ بِجِلْدِهَا ». قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ قَالَ « إِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا ». وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ « إِنَّ دِبَاغَهُ ذَكَاتُهُ
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی ایک اہلیہ محترمہ کے پالتو بکری کے پاس سے گزرے جو مرچکی تھی، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اس کی کھال کو استعمال کیوں نہیں کرتے ؟ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! یہ مردار ہے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یہ دباغت کے ذریعے پاک ہوجاتی ہے۔
ابن صاعد کی نقل کردہ روایت میں کچھ لفظی اختلاف ہے (یعنی ضمیر مجردر متصل واحد مونث غائب کی بجائے واحد مذکر غائب منقول ہے)