hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 974

.

سنن الدارقطني

974
Sunan Al Daraqutni
974 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِىُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رضى الله عنه كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ صَلاَةَ الْعَصْرِ شَيْئًا فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- بِوَقْتِ الصَّلاَةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ اعْلَمْ مَا تَقُولُ . قَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِى مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِىَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرَنِى بِوَقْتِ الصَّلاَةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ». يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُصَلِّى الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلاَةِ فَيَأْتِى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّى الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّى الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ - قَالَ الرَّبِيعُ سَقَطَ مِنْ كِتَابِى حَتَّى فَقَطْ - وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ ثُمَّ كَانَتْ صَلاَتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ.
974 ۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ عمر بن عبدالعزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے (یعنی خطبہ دے رہے تھے) انھوں نے عصر کی نماز میں ذرا تاخیر کردی ، توعروہ بن زبیر بولے : حضرت جبرائیل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تھا، عمر بن عبدالعزیز نے ان سے کہا : آپ ذرا سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، توعروہ نے کہا : میں نے بشیر بن ابومسعود کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابومسعود انصاری (رض) کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے انھوں نے یہ فرمایا ہے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے تو انھوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا، میں نے ان کے ساتھ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ساتھ (اگلی نماز) ادا کی پھر میں ان کے ساتھ اگلی نماز ادا کی ، انھوں نے اپنی انگلیوں پر پانچ نمازوں کا حساب لگا کر بتایا۔
(حضرت ابومسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں : ) مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ بات یاد ہے آپ ظہر کی نماز اس وقت ادا کرلیتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا البتہ جب گرمی زیادہ ہوتی تھی تو آپ اس نماز کو موخر کردیا کرتے تھے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے جب سورج بلند اور روشن ہوتا تھا، ابھی اس میں زردی نہیں آئی ہوتی تھی (یعنی دھوپ ماند نہیں ہوئی تھی) اور کوئی شخص نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا تھا عشاء کی نماز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت ادا کرتے تھے ، جب افق سیاہ ہوجاتا تھا، بعض اوقات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے اتنی دیر تک موخر کردیتے تھے تاکہ لوگ اکٹھے ہوجائیں۔
(راوی کہتے ہیں : ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں) صبح کی نماز کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندھیرے میں ادا کرلیتے تھے اور کبھی روشنی میں ادا کیا کرتے تھے لیکن پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو اندھیرے میں ہی ادا کرنا شروع کردیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال تک یہی معمول رہا دوبارہ آپ نے کبھی روشنی میں یہ نماز ادا نہیں کی۔