975 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَبُو إِسْمَاعِيلَ التِّرْمِذِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِى حَبِيبٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ وَيُصَلِّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حَتَّى يَنْصَرِفَ مِنْهَا إِلَى ذِى الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا وَيُصَلِّى الصُّبْحَ فَيُغَلِّسُ بِهَا ثُمَّ صَلاَّهَا يَوْمًا آخَرَ فَأَسْفَرَ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى الإِسْفَارِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
975 ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
جب آپ عصر کی نماز ادا کرتے تھے اس وقت سورج روشن اور بلند ہوتا تھا، کوئی شخص چلتا ہواجاتا تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ پہنچ سکتا تھا جو چھ میل کے فاصلے پر تھا اور وہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں پہنچ سکتا تھا۔ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : صبح کی نماز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے پھر کسی دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے روشنی میں بھی ادا کرلیتے تھے (لیکن پھر اس کے بعد آپ نے اسے اندھیرے میں ہی ادا کرنے کا معمول اختیار کیا) دوبارہ کبھی روشنی میں آپ نے یہ نماز ادا نہیں کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال تک آپ کا یہی معمول رہا۔