976 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الأَزْدِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ - يَعْنِى الْقَطَّانَ - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِىُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِىُّ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِىُّ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِىِّ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِىٍّ رضى الله عنه فِى الْمَسْجِدِ الأَعْظَمِ وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ الصَّلاَةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ فَقَالَ اجْلِسْ. فَجَلَسَ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ فَقَالَ عَلِىٌّ رضى الله عنه هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ فَقَامَ عَلِىٌّ رضى الله عنه فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِى كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ لِنُزُولِ الشَّمْسِ لِلْمَغِيبِ نَتَرَاءَاهَا. زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِىُّ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ.
976 ۔ زیادہ بن عبداللہ نخعی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت علی (رض) کے ساتھ مسجد اعظم میں بیٹھے ہوئے تھے کوفہ ان دنوں اخصاص تھا، موذن ان کے پاس آیا اور بولا امیر المومنین : عصر کی نماز کا وقت ہوگیا ہے ، حضرت علی (رض) نے فرمایا بیٹھ جاؤ : وہ بیٹھ گیا، اس نے پھر دوبارہ یہی عرض کی تو حضرت علی (رض) نے فرمایا یہ گدھا ہمیں سنت کی تعلیم دے گا پھر حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے انھوں نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ، پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد پھر اسی جگہ پر آکر بیٹھ گئے ، جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے ۔ پھر ہم نے گھٹنوں کے بل اٹھ کر اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کی کہ سورج غروب تو نہیں ہوگیا۔
اس روایت کا راوی زیاد بن عبداللہ نخعی مجہول ہے ، اس کے حوالے سے صرف عباس نامی راوی نے روایت نقل کی ہے۔