حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي عَلَى الْحَقِّ مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَالَفَهُمْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ نصرت الٰہی سے بہرہ ور ہو کر حق پر قائم رہے گا، مخالفین کی مخالفت اسے (اللہ کے امر یعنی :) ١ ؎ قیامت تک کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٠) ، الفتن ٥ (٢٨٨٩) ، سنن الترمذی/الفتن ١٤ (٢١٧٦) ، ٥١ (٢٢٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٢١٠٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الفتن ١ (٤٢٥٢) ، مسند احمد (٥/٣٤، ٣٥) ، سنن الدارمی/الجہاد ٣٨ (٢٤٧٦) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ٣٩٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: امر اللہ سے مراد وہ ” ہوا “ ہے جو سارے مومنوں کی روحوں کو قبض کرے گی۔