حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَامَ مُعَاوِيَةُ خَطِيبًا، فَقَالَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا وَطَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرُونَ عَلَى النَّاسِ لَا يُبَالُونَ مَنْ خَذَلَهُمْ، وَلَا مَنْ نَصَرَهُمْ .
شعیب کہتے ہیں کہ معاویہ (رض) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور کہا : تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ تمہارے علماء کہاں ہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے : قیامت تک میری امت میں سے ایک گروہ لوگوں پر غالب رہے گا، کوئی اس کی مدد کرے یا نہ کرے اسے اس کی پرواہ نہ ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٤١٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/فرض الخمس ٧ (٣١١٦) ، المناقب ٢٨ (٣٦٤٠) ، الاعتصام ١٠ (٧٣١١) ، التوحید ٢٩ (٧٤٥٩) ، صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٣) ، مسند احمد (٤/٩٣) (صحیح )