حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فِتْنَةً فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى ، فَوَثَبْتُ، فَأَخَذْتُ بِضَبْعَيْ عُثْمَانَ، ثُمَّ اسْتَقْبَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقُلْتُ: هَذَا؟ قَالَ: هَذَا .
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا کہ وہ جلد ظاہر ہوگا، اسی درمیان ایک شخص اپنا سر منہ چھپائے ہوئے گزرا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ شخص ان دنوں ہدایت پر ہوگا ، کعب (رض) کہتے ہیں : میں تیزی سے اٹھا، اور عثمان (رض) کے دونوں کندھے پکڑ لیے، پھر میں نے رسول اللہ ﷺ کی جانب رخ کر کے کہا : کیا یہی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں یہی ہیں (جو ہدایت پر ہوں گے) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١١١٧، ومصباح الزجاجة : ٤٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/المنا قب ١٩ (٣٧٠٤) ، مسند احمد (٤/ ٢٣٥، ٢٣٦، ٢٤٢، ٢٤٣) (صحیح) (ابن سیرین اور کعب بن عجرہ (رض) کے درمیان انقطاع ہے، لیکن مرة بن کعب کی ترمذی کی حدیث نمبر ( ٣٧٠٤ ) کے شاہد سے یہ صحیح ہے، جس کی تصحیح امام ترمذی نے کی ہے ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ عثمان (رض) کے خلاف بغاوت کرنے والے، اور فتنہ کھڑا کرنے والے حق پر نہ تھے، اور عثمان (رض) حق پر تھے۔