حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): يَا عُثْمَانُ إِنْ وَلَّاكَ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ يَوْمًا، فَأَرَادَكَ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تَخْلَعَ قَمِيصَكَ الَّذِي قَمَّصَكَ اللَّهُ، فَلَا تَخْلَعْهُ ، يَقُولُ: ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ النُّعْمَانُ: فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: مَا مَنَعَكِ أَنْ تُعْلِمِي النَّاسَ بِهَذَا؟ قَالَتْ: أُنْسِيتُهُ وَاللَّهِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے عثمان ! اگر اللہ تعالیٰ کبھی تمہیں اس امر یعنی خلافت کا والی بنائے، اور منافقین تمہاری وہ قمیص اتارنا چاہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہنائی ہے، تو اسے مت اتارنا ، آپ ﷺ نے یہ بات تین بار فرمائی۔ نعمان (رض) کہتے ہیں : میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے کہا : پھر آپ نے یہ بات لوگوں کو بتائی کیوں نہیں ؟ تو وہ بولیں : میں اسے بھلا دی گئی تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٧٥، ومصباح الزجاجة : ٤٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/المناقب ١٩ (٣٧٠٥) ، مسند احمد (٦/١٤٩) (صحیح) (امام ترمذی نے ربیعہ بن یزید اور نعمان بن بشیر (رض) کے درمیان عبد اللہ بن عامر الیحصبی کا ذکر کیا ہے، ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں اسی کو صحیح قرار دیا ہے، ملاحظہ ہو : ٣/٢٦٤ ) وضاحت : ١ ؎: قمیص سے مراد خلافت ہے، ظاہر ہے عثمان (رض) کی خلافت صحیح تھی، مخالفین ظلم، نفاق اور ہٹ دھرمی کا شکار تھے، ام المؤمنین عائشہ (رض) بھی یہ حدیث بمنشا الہٰی بھول گئی تھیں، بعد میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کی بات یاد آگئی۔