حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ (ﷺ) فَاسْتَأْذَنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، عمار بن یاسر (رض) نے اندر آنے کی اجازت چاہی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا : انہیں آنے کی اجازت دو ، طیب و مطیب پاک و پاکیزہ شخص کو خوش آمدید ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المناقب ٣٥ (٣٧٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٠٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٩٩، ١٠٠، ١٢٣، ١٢٦، ١٣٠، ١٣٧) (صحیح )