حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، قَالَ: دَخَلَ عَمَّارٌ عَلَى عَلِيٍّ فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَقُولُ: مُلِئَ عَمَّارٌ إِيمَانًا إِلَى مُشَاشِهِ.
ہانی بن ہانی (رض) کہتے ہیں کہ عمار (رض) علی (رض) کے پاس گئے تو علی (رض) نے کہا : طیب و مطیب پاک و پاکیزہ کو خوش آمدید، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : عمار ایمان سے بھرے ہوئے ہیں، ایمان ان کے جوڑوں تک پہنچ گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٣٠٣، ومصباح الزجاجة : ٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مشاش: ہڈیوں کے جوڑ کو کہتے ہیں، جیسے کہنی یا گھٹنے یا کندھے کا جوڑ، مراد یہ ہے کہ عمار (رض) کے دل میں ایمان گھر کر گیا ہے، اور وہاں سے ان کے سارے جسم میں ایمان کے انوار و برکات پھیل گئے ہیں، اور رگوں اور ہڈیوں میں سما گئے ہیں، یہاں تک کہ جوڑوں میں بھی اس کا اثر پہنچ گیا ہے، اور اس میں عمار بن یاسر (رض) کے کمال ایمان کی شہادت ہے جو عظیم فضیلت ہے۔