حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ مَاتَتْ، وَلَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ (ﷺ)، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ، فَقَالَ: هَلَّا آذَنْتُمُونِي بِهَا؟، ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ: صُفُّوا عَلَيْهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا.
عامر بن ربیعہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک کالی عورت کا انتقال ہوگیا، اور نبی اکرم ﷺ کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا : اس پہ صف باندھو، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٥٠٤٠، ومصباح الزجاجة : ٥٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٤٤) (حسن صحیح )