حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَعُودُهُ، فَدَفَنُوهُ بِاللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَعْلَمُوهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكُمْ أَنْ تُعْلِمُونِي، قَالُوا: كَانَ اللَّيْلُ، وَكَانَتِ الظُّلْمَةُ فَكَرِهْنَا أَنْ نَشُقَّ عَلَيْكَ، فَأَتَى قَبْرَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کا انتقال ہوگیا، جس کی عیادت رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے، لوگوں نے اسے رات میں دفنا دیا، جب صبح ہوئی اور لوگوں نے (اس کی موت کے بارے میں) آپ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھے اطلاع کیوں نہیں دی ؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور تاریکی تھی، ہم نے آپ کو تکلیف دینا اچھا نہیں سمجھا، تو آپ ﷺ اس کی قبر کے پاس آئے، اور اس کی نماز جنازہ پڑھی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٦١ (٨٥٧) ، الجنائز ٥ (١٢٤٧) ، ٥٤ (١٣٢١) ، ٥٥ (١٣٢٢) ، ٥٩ (١٣٢٦) ، ٦٦ (١٣٣٦) ، ٦٩ (١٣٤٠) ، صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٤) ، سنن ابی داود/الجنائز ٥٨ (٣١٩٦) ، سنن الترمذی/الجنائز ٤٧ (١٠٣٧) ، سنن النسائی/الجنائز ٩٤ (٢٠٢٥، ٢٠٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٤، ٢٣٨، ٣٣٨) (صحیح )