حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ الْجُوبَارِيُّ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَطَاءِ بْنِ مُقَدَّمٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي الْعُنُقِ، فَقَالَ: السُّنَّةُقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَدَ رَجُلٍ ثُمَّ عَلَّقَهَا فِي عُنُقِهِ.
ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے سوال کیا : ہاتھ کاٹ کر گردن میں ٹکانا کیسا ہے ؟ انہوں نے کہا : سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ کاٹا، پھر اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحدود ٢١، (٤٤١١) ، سنن الترمذی/الحدود ١٧ (١٤٤٧) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٥ (٤٩٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (سند میں عمر، حجاج اور مکحول تینوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے )