حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سَمُرَةَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ شَمْسٍ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَرَقْتُ جَمَلًا لِبَنِي فُلَانٍ فَطَهِّرْنِي، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ (ﷺ)، فَقَالُوا: إِنَّا افْتَقَدْنَا جَمَلًا لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ (ﷺ) فَقُطِعَتْ يَدُهُ. قَالَ ثَعْلَبَةُ: أَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ حِينَ وَقَعَتْ يَدُهُ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي طَهَّرَنِي مِنْكِ، أَرَدْتِ أَنْ تُدْخِلِي جَسَدِي النَّارَ.
ثعلبہ انصاری (رض) سے روایت ہے کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور کہا : اللہ کے رسول ! میں نے بنی فلاں کا اونٹ چرایا ہے، لہٰذا مجھے اس جرم سے پاک کر دیجئیے، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے پاس کسی کو بھیجا، انہوں نے بتایا کہ ہمارا ایک اونٹ غائب ہوگیا ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا، اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ ثعلبہ (رض) کہتے ہیں : میں دیکھ رہا تھا جب اس کا ہاتھ کٹ کر گرا تو وہ کہہ رہا تھا : اللہ کا شکر ہے جس نے مجھے تجھ سے پاک کیا، تو چاہتا تھا کہ میرے جسم کو جہنم میں داخل کرے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٠٧٥، ومصباح الزجاجة : ٩١٥) (ضعیف) (سند میں عبدالرحمن بن ثعلبہ مجہول اور عبداللہ بن لہیعہ ضعیف ہیں )