حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا مَرِضَتْ فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، أَنْ تَطُوفَ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَهِيَ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّي إِلَى الْبَيْتِ، وَهُوَ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ 1 وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ 2 سورة الطور آية 1-2، قَالَ ابْن مَاجَةَ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ وہ بیمار ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرنے کا حکم دیا، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے دیکھا، آپ ﷺ سورة والطور وکتاب مسطور کی قرات فرما رہے تھے۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : یہ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٧٨ (٤٦٤) ، الحج ٦٤ (١٦١٩) ، ٧١ (١٦٢٦) ، ٧٤ (١٦٣٣) ، تفسیرالطور ١ (٤٨٥٣) ، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٦) ، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٨٢) ، سنن النسائی/الحج ١٣٨ (٢٩٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٦٢) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٤٠ (١٢٣) ، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بیماری اور کمزوری کی حالت میں سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے، آج کل بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے سواری پر طواف کرنا بڑا مشکل بلکہ ناممکن ہے، اس لیے اس کی جگہ پر مخصوص لوگ حجاج کو چارپائی پر بٹھا کر طواف کراتے ہیں۔