حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِشَيْبَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ يَقُولُ: لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا.
شیبہ کی ام ولد (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے : ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الحج ١٧٧ (٢٩٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٠٤، ٤٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ام ولد : ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک کے بچہ کو جنا ہو۔ ابطح : صفا اور مروہ کے درمیان ایک مقام ہے، اب وہاں دو ہرے نشان بنا دئیے گئے ہیں، وہاں دوڑ کر سعی کرنی چاہیے یہ ہاجرہ (علیہا السلام) کی سنت ہے، وہ پانی کی تلاش میں یہاں سات بار دوڑی تھیں۔