حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَسْعَى، وَإِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الحج ٥٦ (١٩٠٤) ، سنن الترمذی/الحج ٣٩ (٨٦٤) ، سنن النسائی/الحج ١٧٤ (٢٩٧٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٧٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٣٤ (١٣٠) ، مسند احمد (٢/٥٣، ٦٠، ٦١، ١٢٠) ، سنن الدارمی/المناسک ٢٥ (١٨٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: عبداللہ بن عمر (رض) کے قول کا یہ مطلب ہے کہ دوڑنا اور معمولی چال سے چلنا دونوں طرح سنت ہے، اور اگر چلنا سنت بھی ہو تب بھی چلنے میں میرے لیے حرج نہیں، اس لیے کہ میں ناتواں بوڑھا ہوں۔