حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي مُحَمَّدٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) لِإِحْرَامِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِإِحْلَالِهِ حِينَ أَحَلَّ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو احرام باندھتے وقت، اور احرام کھولتے وقت خوشبو لگائی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧ (١١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحج ١٨ (١٥٣٩) ، ١٤٣ (١٧٥٤) ، اللباس ٧٣ (٥٩٢٢٠) ، ٧٤ (٥٩٢٣) ، ٧٩ (٥٩٢٨) ، ٨١ (٥٩٣٠) ، سنن ابی داود/الحج ١١ (١٧٤٥) ، سنن الترمذی/الحج ٧٧ (٩١٧) ، سنن النسائی/الحج ٤١ (٢٦٨٥) ، موطا امام مالک/الحج ٧ (١٧) ، مسند احمد (٦/٩٨، ١٠٦، ١٣، ١٦٢، ١٨١، ١٨٦، ١٩٢، ٢٠٠، ٢٠٧، ٢٠٩، ٢١٤، ٢١٦، ٢٣٧، ٢٣٨، ٢٤٤، ٢٤٥، ٢٥٨) ، سنن الدارمی/المناسک ١٠ (١٨٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حلق یعنی سر منڈانا اور تقصیر یعنی بال کترانا دونوں جائز ہیں، لیکن حلق افضل ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے تین بار حلق کرانے والوں کے لیے دعا کی، حج میں حلق ا فضل ہے، حلق اور تقصیر حج اور عمرہ کا ایک رکن ہے۔