حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، عَنْأَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ، ثَلَاثًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالْمُقَصِّرِينَ؟، قَالَ: وَالْمُقَصِّرِينَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور بال کتروانے والوں کو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! سر منڈانے والوں کو بخش دے ، آپ نے یہ تین بار فرمایا : تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور بال کتروانے والوں کو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اور بال کتروانے والوں کو بھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ١٢٧ (١٧٢٨) ، صحیح مسلم/الحج ٥٥ (١٣٠٢) ، (تحفة الأشراف : ١٤٩٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٣١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث سے معلوم ہوا کہ سر منڈانا کتروانے سے افضل ہے کیونکہ سر منڈوانے والوں کے لیے آپ ﷺ نے تین بار دعا کی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار اور وہ بھی آخر میں۔