حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا، وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً؟ قَالَ: إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا کہ اللہ کے رسول ! آپ نے بال منڈوانے والوں کے لیے تین بار دعا فرمائی، اور بال کتروانے والوں کے لیے ایک بار، اس کی کیا وجہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : انہوں نے شک نہیں کیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٤١٠، ومصباح الزجاجة : ١٠٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٥٣) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: بلکہ جس حکم کو اللہ تعالیٰ نے پہلی بار بیان کیا اسی پر عمل کیا، قرآن شریف میں ہے : محلقين رؤوسکم ومقصرين (سورة الفتح : 27) تو پہلے حلق کو ذکر فرمایا۔