حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ حَفْصَةَزَوْجَ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا، وَلَمْ تَحِلَّ أَنْتَ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: إِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین حفصہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے لوگوں نے اپنے عمرے سے احرام کھول دیا، اور آپ نے نہیں کھولا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے اپنے سر کی تلبید ١ ؎ کی تھی، اور ہدی (کے جانور) کو قلادہ پہنایا تھا ٢ ؎ اس لیے جب تک میں قربانی نہ کرلوں حلال نہیں ہوسکتا ٣ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦٦) ، ١٠٧ (١٦٩٧) ، ١٢٦ (١٧٢٥) ، المغازي ٧٧ (٤٣٩٨) ، اللباس ٦٩ (٥٩١٦) ، صحیح مسلم/الحج ٢٥ (١٢٢٩) ، سنن ابی داود/الحج ٢٤ (١٨٠٦) ، سنن النسائی/الحج ٤٠ (٢٦٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٠٠) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٨٠) ، مسند احمد (٦/٢٨٣، ٢٨٤، ٢٨٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تلبید کہتے ہیں بالوں کو گوند وغیرہ سے جما لینا تاکہ پریشان نہ ہوں، اور احرام کے وقت گرد و غبار سے سر محفوظ رہے۔ ٢ ؎: ہدی کے جانور کو قلادہ پہنانے کو تقلید کہتے ہیں، تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ ٣ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تلبید جائز ہی نہیں بلکہ مسنون ہے۔