حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ)،سَقَطَ عَنْ فَرَسِهِ عَلَى جِذْعٍ، فَانْفَكَّتْ قَدَمُهُ، قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي: أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) احْتَجَمَ عَلَيْهَا مِنْ وَثْءٍ.
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک بار اپنے گھوڑے سے کھجور کے درخت کی پیڑی پر گرپڑے، اس سے آپ کے پیر میں موچ آگئی۔ وکیع کہتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے صرف درد کی وجہ سے وہاں پر پچھنا لگوایا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢٣١٠، ومصباح الزجاجة : ١٢١٣) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٦٩ (٦٠٢) ، الطب ٥ (٣٨٦٣) ، سنن النسائی/الحج ٩٣ (٢٨٥١) ، مسند احمد (٣/٣٠٥، ٣٥٧، ٣٦٣، ٣٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: وثء: عربی میں اس درد کو کہتے جو کسی عضو میں عضو ٹوٹنے کے بغیر پیدا ہو۔