hadith book logo

Ibn Majah: Hadith 3486

.

سنن ابن ماجه

3486
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ،‏‏‏‏ عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ مَيْسَرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَرَادَ الْحِجَامَةَ،‏‏‏‏ فَلْيَتَحَرَّ سَبْعَةَ عَشَرَ،‏‏‏‏ أَوْ تِسْعَةَ عَشَرَ،‏‏‏‏ أَوْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ،‏‏‏‏ وَلَا يَتَبَيَّغْ بِأَحَدِكُمُ الدَّمُ فَيَقْتُلَهُ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص پچھنا لگوانا چاہے تو (ہجری) مہینے کی سترہویں، انیسویں یا اکیسویں تاریخ کو لگوائے، اور (کسی ایسے دن نہ لگوائے) جب اس کا خون جوش میں ہو کہ یہ اس کے لیے موجب ہلاکت بن جائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٨، ومصباح الزجاجة : ١٢١٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الطب ١٢ (٢٠٥١) (صحیح) (تراجع الألبانی : رقم : ٣٨٥ ) وضاحت : ١ ؎ : ابوداود نے کبشہ سے روایت کی کہ ان کے باپ منگل کے دن پچھنا لگوانے کو منع کرتے تھے اور کہتے تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : منگل کے دن ایک ساعت ایسی ہے جس میں خون بند نہیں ہوتا، اور منگل کا دن خون کا دن ہے، اور آگے ابن عمر (رض) کی حدیث میں آتا ہے کہ پیر اور منگل کے دن پچھنے لگواؤ، پس دونوں میں تعارض ہوگیا، اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ ابن عمر (رض) کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو مہینے کی سترھویں تاریخ کو پڑے کیونکہ طبرانی میں معقل بن یسار (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس نے منگل کے دن سترھویں تاریخ کو پچھنے لگوائے، وہ اس کے لئے سال بھر تک دوا ہوں گے، اور کبشہ کی حدیث میں وہ منگل مراد ہے جو سترہویں تاریخ کے سوا اور کسی تاریخ میں پڑے اور سنن ابی داود میں ابوہریرہ (رض) سے مرفوعاً مروی ہے جس نے پچھنے لگوائے سترھویں، یا انیسویں، یا اکیسویں کو وہ ہر بیماری سے شفا پائیں گے۔