حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمْ أَصَابَهُمْ جُوعٌ وَهُمْ سَبْعَةٌ، قَالَ: فَأَعْطَانِي النَّبِيُّ (ﷺ) سَبْعَ تَمَرَاتٍ، لِكُلِّ إِنْسَانٍ تَمْرَةٌ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ان کو بھوک لگی اور وہ سات آدمی تھے پھر نبی اکرم ﷺ نے مجھے سات کھجوریں دیں، ہر ایک کے لیے ایک ایک کھجور تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأطعمة ٢٣ (٥٤١١) ، سنن الترمذی/صفة جہنم ٣٤ (٢٤٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٩٨، ٣٥٣، ٤١٥) (صحیح) (حدیث میں لکل إنسان تمرة کا لفظ شاذ ہے، اس لئے کہ صحیح حدیث میں فأعطاني لکل إنسان سبع تمرات آیا ہے کمافی صحیح البخاری ) وضاحت : ١ ؎: صحیح بخاری میں ہے کہ سب کو سات سات کھجوریں دیں۔