حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ سورة التكاثر آية 8، قَالَ الزُّبَيْرُ: وَأَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ، وَإِنَّمَا هُوَ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ، قَالَ: أَمَا إِنَّهُ سَيَكُونُ.
زبیر بن عوام (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت : ثم لتسألن يومئذ عن النعيم پھر تم سے اس دن نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا (سورة اتکاثر : 8) نازل ہوئی، تو انہوں نے کہا : کن نعمتوں کے بارے میں ہم سے پوچھا جائے گا ؟ یہاں تو صرف دو کالی چیزیں : پانی اور کھجور ہی میسر ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : عنقریب نعمتیں حاصل ہوں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر القرآن ٨٨ (٣٣٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٢٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٦٣) (حسن )