حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى النَّبِيُّ (ﷺ) الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِي لَمْ يُظْهِرْهَا الْفَيْءُ بَعْدُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ١ (٥٢٢) ، ١٣ (٥٤٦) ، الخمس ٤ (٣١٠٣) ، صحیح مسلم/المساجد ٣١ (٦١١) ، (تحفة الأشراف : ١٦٤٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤٠٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٦ (١٥٩) ، سنن النسائی/المواقیت ٨ (٥٠٦) ، موطا امام مالک/ وقوت الصلاة ١ (٢) ، مسند احمد ٦/٣٧، ٨٥، ١٩٩، ٢٧٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سائے کا کمرہ کے اندر ہونا دلالت کرتا ہے کہ عصر کا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ لی گئی تھی، اگر دیر کی جاتی تو سایہ کمرے میں نہ رہتا بلکہ دیواروں پر چڑھ جاتا۔