حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى.
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ خندق کے دن فرمایا : اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں نماز وسطیٰ (عصر کی نماز) کی ادائیگی سے باز رکھا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٩٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/ الجہاد ٩٨ (٢٩٣١) ، المغازي ٢٩ (٤١١١) ، تفسیرالبقرہ (٤٥٣٣) ، الدعوات ٥ (٦٣٩٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٥ (٦٢٧) ، ٣٦ (٦٢٧) ، سنن ابی داود/الصلاة ٥ (٤٠٩) ، سنن الترمذی/تفسیر البقرة (٢٩٨٤) ، سنن النسائی/الصلاة ١٥ (٤٧٤) ، حم ١/٨١، ٨٢، ١١٣، ١٢٢، ١٢٦، ١٣٥، ١٣٧، ١٤٤، ١٤٦، ١٥٠، ١٥١، ١٥٢، ١٥٣، ١٥٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٨ (١٢٦٨) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: تو معلوم ہوا کہ عصر کی نماز بھی نماز ہے، اور قرآن شریف میں ہر فریضہ نماز پر محافظت کرنے کا حکم دیا خصوصاً نماز وسطی پر، تو عصر کی محافظت کی زیادہ تاکید نکلی، اور نماز وسطی میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے کہ وہ عصر کی نماز ہے، اور یہی مختار ہے، واللہ اعلم۔