(۱۰۱۷۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، قَالَ : سَنَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیمَا سَقَت السَّمَائُ ، أَوْ سَقَی الْغَیْلُ ، وَکَانَ بَعْلاً الْعُشْرُ کَامِلاً ، وَمَا سُقِیَ بِالرِّشَائِ فَنِصْفُ الْعُشْرِ . قَالَ : وَقَالَ قَتَادَۃُ : وَکَانَ یُقَالُ : فِیمَا یُکَالُ مِنَ الثَّمَرَۃِ الْعُشْرُ ، وَنِصْفُ الْعُشْرِ. (مسلم ۱۵۷۱)
(١٠١٧٨) حضرت قتادہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طریقہ جاری فرمایا کہ جس زمین کو بارش یا جاری چشمہ یا اونٹوں کے ذریعہ سیراب کیا جائے یا پھر اس زمین کو پانی کی ضرورت نہیں ہے وہ زمین کی تری سے پانی حاصل کرتی ہے ان سب پر کامل عشر ہے اور جس زمین کو رسی (ڈول) کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس زمین پر نصف عشر ہے اور حضرت قتادہ کہا کرتے تھے کہ جن پھلوں کو کیل کیا جاتا ہے ان میں عشر یا نصف عشر ہے۔