(۱۰۱۷۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی مُوسَی بْنُ عُقْبَۃَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : صَدَقَۃُ الثمَّارِ ، وَالزَّرْعِ ، وَمَا کَانَ مِنْ نَخْلٍ ، أَوْ زَرْعٍ مِنْ حِنْطَۃٍ ، أَوْ شَعِیرٍ ، أَوْ سُلْتٍ مِمَّا کَانَ بَعْلاً، أَوْ یُسْقَی بِنَہَرٍ ، أَوْ یُسْقَی بِالْعَیْنِ ، أَوْ عَثَرِیًّا یُسْقَی بِالْمَطَرِ فَفِیہِ الْعُشْرُ ، مِنْ کُلِّ عَشَرَۃٍ وَاحِدٌ ، وَمَا کَانَ مِنْہُ یُسْقَی بِالنَّضْحِ فَفِیہِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، فِی کُلِّ عِشْرِینَ وَاحِدٌ ، وَکَتَبَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إلَی أَہْلِ الْیَمَنِ، إلَی الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ کُلاَلٍ ، وَمَنْ مَعَہُ مِنْ أَہْلِ الْیَمَنِ مِنْ مَعَافِرَ وَہَمْدَانَ : أَنَّ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ مِنْ صَدَقَۃِ أَمْوَالِہِمْ عُشُورَ ، مَا سَقَتِ الْعَیْنُ ، وَسَقَتِ السَّمَائُ الْعُشْرُ ، وَعَلَی مَا یُسْقَی بِالْغُرْبِ نِصْفُ الْعُشْرِ. (دارقطنی ۱۳۰۔ بیہقی ۱۳۰)
(١٠١٧٩) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ پھلوں پر زکوۃ اور کھیتی کی زکوۃ خواہ وہ کھجور ہو، گندم ہو یا جو ہو یا جو کی ہی کوئی نوع، یا پھر اس کو نہر سے سیراب کیا جاتا ہو یا چشمے کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو یا اس کو بارش کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہو ان پر عشر ہے یعنی دس پر ایک، اور جس زمین کو ڈول سے سیراب کیا جاتا ہو اس پر نصف عشر ہے یعنی بیس پر ایک، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حارث بن عبد کلال اور دوسرے حضرات کو یمن میں لکھ کر بھیجا تھا کہ مؤمنین کے وہ اموال (زمین) جن کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے یا آسمان کے پانی سے سیراب کیا جائے اس پر عشر ہے اور جس کو سیراب کیا جائے ڈول سے اس پر نصف عشر ہے۔