(۱۰۷۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ ، قَالَ : أَخَذَ الوَلِیدُ بن عَبْدِ الْمَلِکِ مَالَ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الرَّقَّۃِ یُقَالُ لَہُ : أَبُو عَائِشَۃَ عِشْرِینَ أَلْفًا ، فَأَلقَاہَا فِی بَیْتِ الْمَالِ ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَتَاہُ وَلَدُہُ ، فَرَفَعُوا مَظْلِمَتَہُمْ إلَیْہِ ، فَکَتَبَ إلَی مَیْمُونٍ : ادْفَعُوا إلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ ، وَخُذُوا زَکَاۃَ عَامِہِ ہَذَا ، فَلَوْلا أَنَّہُ کَانَ مَالاً ضِمَارًا أَخَذْنَا مِنْہُ زَکَاۃَ مَا مَضَی۔
(١٠٧١٦) حضرت عمرو بن میمون فرماتے ہیں کہ ولید بن عبد الملک نے اہل ذمہ میں سے ایک شخص جس کی کنیت ابوعائشہ تھی اس کے بیس ہزار (درہم) لیے اور بیت المال میں داخل کردیئے۔ پھر جب حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے اس کا بیٹا آپ کے پاس آیا اور اپنی مظلومیت کی داستان آپ تک پہنچائی۔ آپ نے میمون کو لکھا کہ اس کا مال اس کو واپس لوٹا دو اور اس سال کی زکوۃ بھی وصول کرلو۔ اگر یہ مال ضمار (وہ مال اور قرض جس کے واپس ملنے کی امید نہ ہو) نہ ہوتا تو میں گزرے ہوئے سالوں کی زکوۃ بھی وصول کرتا۔