(۱۰۷۱۷) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ ؛ أَنَّ رَجُلاً ذَہَبَ لَہُ مَالٌ فِی بَعْضِ الْمَظَالِمِ ، فَوَقَعَ فِی بَیْتِ الْمَالِ ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ رُفِعَ إلَیْہِ ، فَکَتَبَ عُمَرُ : أَنِ ادْفَعُوا إلَیْہِ ، وَخُذُوا مِنْہُ زَکَاۃَ مَا مَضَی ، ثُمَّ تَبعَہُمْ بَعْدُ کِتَاب : أَنِ ادْفَعُوا إلَیْہِ مَالَہُ ، ثُمَّ خُذُوا مِنْہُ زَکَاۃَ ذَلِکَ الْعَامِ ، فَإِنَّہُ کَانَ مَالاً ضِمَارًا۔
(١٠٧١٧) حضرت میمون سے مروی ہے کہ ایک شخص کا مال بعض مظالم کی وجہ سے اس سے لے کر بیت المال میں داخل کردیا گیا۔ جب حضرت عمر بن عبد العزیز خلیفہ بنے، تو اس نے یہ بات آپ تک پہنچائی، حضرت عمر بن عبد العزیز نے لکھا اس کا مال اس کو واپس کردو اور گذرے ہوئے سالوں کی زکوۃ بھی وصول کرلو پھر اس کے بعد دوبارہ لکھا کہ اس کا مال اس کو واپس کردو اور اس کی زکوۃ اس سال کی وصول کرلو کیونکہ یہ ایسا مال ہے جس کی واپسی کی امید نہ تھی۔