حدثنا أبو بکر بن أبی شیبۃ قال:
(۱۰۹۰۵) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : دَخَلْت عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُوعَکُ ، قَالَ فَمَسِسْتُہُ فَقُلْت : یَا رَسُولَ اللہِ إنَّک لَتُوعَکُ وَعْکًا شَدِیدًا ، فَقَالَ : أَجَلْ إنِّی أُوعَکُ کَمَا یُوعَکُ رَجُلاَنِ مِنْکُمْ قَال : قُلْتُ : لأَنَّ لَکَ أَجْرَیْن ؟ فَقَالَ : نَعَمْ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ مَا عَلَی الأَرْضِ مُسْلِمٌ یُصِیبُہُ أَذًی فَمَا سِوَاہُ إِلاَّ حَطَّ اللَّہُ بِہِ عَنْہُ خَطَایَاہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔ (بخاری ۵۶۴۷۔ مسلم ۱۹۹۱)
(١٠٩٠٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کو بخار تھا، میں نے حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوا اور پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ کو تو بہت تیز بخار ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جی ہاں مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار دیا جاتا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کے لیے دو اجر ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے زمین پر کوئی مسلمان نہیں جس کو کوئی تکلیف پہنچے مگر (اس کے بدلے) اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ایسے گراتے ہیں جیسے درخت اپنے پتوں کو گراتے ہیں۔