(۱۱۴۵۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عِیَاضٍ الأَشْعَرِیِّ ، قَالَ لَمَّا أُغْمِیَ عَلَی أَبِی مُوسَی صَاحَتِ امْرَأَتُہُ ، فَلَمَّا أَفَاقَ ، قَالَ : أمَا عَلِمْتِ مَا قُلْتُ لَکَ ؟ قَالَت : فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَصِحْ عَلَیْہِ ، فَقُلْنَا : مَا قَالَ لَکَ ؟ قَالَتْ : قَالَ : لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَرَقَ ، أَوْ حَلَقَ ، أَوْ سَلَقَ۔ (مسلم ۱۰۰۔ ابوداؤد ۳۱۲۲)
(١١٤٥٨) حضرت عیاض اشعری فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو موسیٰ پر غشی طاری ہوئی تو ان کی اہلیہ نے چیخنا شروع کردیا، جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کیا تمہیں نہیں معلوم میں نے آپ سے کیا کہا تھا ؟ فرماتی ہیں پھر جب ان کا انتقال ہوا تو اس نے ان پر واویلا نہیں کیا، ہم نے عرض کیا ابو موسیٰ نے آپ سے کیا کہا تھا ؟ اہلیہ نے فرمایا انھوں نے کہا تھا وہ ہم میں سے نہیں جو گلے پر (چہرے پر) مارے، یا گریبان چاک کرے یا چیخے چلائے۔