(۱۱۴۶۰) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِیقٍ ، قَالَ لَمَّا مَاتَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ اجْتَمَعَن نِسْوَۃُ بَنِی الْمُغِیرَۃِ یَبْکِینَ عَلَیْہِ فَقِیلَ لِعُمَرَ أَرْسِلْ إلَیْہِنَّ فَانْہَہُنَّ لاَ یَبْلُغُک عَنْہُنَّ شَیْئٌ تَکْرَہُہُ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : وَمَا عَلَیْہِنَّ أَنْ یُہْرِقْنَ مِنْ دُمُوعِہِنَّ عَلَی أَبِی سُلَیْمَانَ مَا لَمْ یَکُنْ نَقْعٌ ، أَوْ لَقْلَقَۃٌ۔
(١١٤٦٠) حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ جب حضرت خالد بن ولید کا انتقال ہوا تو بنی مغیرہ کی عورتوں نے جمع ہو کر رونا شروع کردیا۔ لوگوں نے حضرت عمر سے عرض کیا۔ آپ ان کی طرف پیغام بھیجیں اور ان کو اس سے منع کریں کیا آپ تک ان کی طرف سے وہ چیز نہیں پہنچی جو ناپسندیدہ ہو ! حضرت عمر نے فرمایا ان پر آنسو بہانے میں کوئی گناہ نہیں جو وہ ابو سلیمان پر بہا رہی ہیں جب تک کہ وہ اپنے سروں پر مٹی نہ ڈالیں اور بہت زیادہ چیخیں اور شور نہ مچائیں۔