(۱۱۹۲۹) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ کَیْسَانَ ، عَنْ أَبِی حَازِمٍ ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : زَارَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّہِ فَبَکَی ، وَأَبْکَی مَنْ کَانَ حَوْلَہُ ، فَقَالَ : اسْتَأْذَنْت رَبِّی فِی أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَہَا فَلَمْ یَأْذَنْ لِی وَاسْتَأْذَنْتُہُ فِی أَنْ أَزُورَ قَبْرَہَا فَأَذِنَ لِی فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّہَا تُذَکِّرُکُمُ الْمَوْتَ۔
(مسلم ۱۰۸۔ احمد ۲/۴۴۱)
(١١٩٢٩) حضرت ابوہریرہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی اور آپ رو پڑے اور آپ کے اردگرد جو حضرات تھے وہ بھی رونے لگے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کروں، تو مجھے اجازت نہیں ملی، اور میں نے اپنے رب سے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو اس سے تمہیں موت یاد آئے گی۔ (موت کی یاد تازہ ہوگی) ۔