hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 11929

.

ابن أبي شيبة

11929
Ibn Abi Shaybah
(۱۱۹۳۰) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الأَسَدِیُّ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بُرَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ أَتَی جِزْم قَبْرٍ فَجَلَسَ إلَیْہِ فَجَعَلَ کَہَیْئَۃِ الْمُخَاطِبِ ، وَجَلَسَ النَّاسُ حَوْلَہُ فَقَامَ وَہُوَ یَبْکِی فَتَلَقَّاہُ عُمَرُ وَکَانَ مِنْ أَجْرَأِ النَّاسِ عَلَیْہِ ، فَقَالَ : بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی یَا رَسُولَ اللہِ مَا الَّذِی أَبْکَاک ، قَالَ : ہَذَا قَبْرُ أُمِّی سَأَلْت رَبِّی الزِّیَارَۃَ فَأَذِنَ لِی وَسَأَلْتُہُ الاِسْتِغْفَارَ فَلَمْ یَأْذَنْ لِی فَذَکَرْتہَا فَرَقَّتْ نَفْسِی فَبَکَیْت ، قَالَ فَلَمْ یُرَ وَمَا کَانَ أَکْثَرَ بَاکِیًا مِنْہُ یَوْمَئِذٍ۔ (احمد ۳۵۵۔ ابن حبان ۵۳۹۰)
(١١٩٣٠) حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک پرانی قبر پر تشریف لائے اور اس کے پاس بیٹھ گئے، آپ مخاطب کی طرح ہوگئے، اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رو رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حضرت عمر ملے اور حضرت عمر لوگوں میں سے آپ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والے تھے، حضرت عمر نے فرمایا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان، کس چیز نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رلایا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ میری والدہ ماجدہ کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے اس کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، اور میں نے استغفار کی اجازت مانگی تو وہ مجھے نہیں ملی، میں نے ان کو یاد کیا تو میرے دل کو ترس آیا اور میں رو پڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ جتنا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دن روئے تھے اس سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔