(۱۲۱۱۷) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مَہْدِیٍّ ، عَنْ رَجُلٍ یُقَالُ لَہُ إسْمَاعِیلُ الْجَحْدَرِیُّ ، قَالَ : خَرَجْنَا فِی جِنَازَۃٍ فَشَہِدَہَا الْحَسَنُ ، قَالَ : فَرَأَی قَوْمًا ازْدَحَمُوا عَلَی السَّرِیرِ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : مَا شَأْنُ ہَؤُلاَئِ إنِّی لأَظُنُّ الشَّیْطَانُ حَسَّ مِنَ النَّاسِ فَاتَّبَعَہُمْ لِیُحْبِطَ أُجُورَہُمْ۔
(١٢١١٧) حضرت اسماعیل الحجدری فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں نکلے تو اس میں حضرت حسن بھی شریک تھے، انھوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ چارپائی پر ازدحام کر رہے ہیں، حضرت حسن نے فرمایا : ان لوگوں کا کیا حال ہے ؟ میرا گمان ہے کہ شیطان نے لوگوں میں خیر اور اجر کا احساس دیکھا تو ان کے ساتھ مل گیا اور ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ جنازے کو کندھا دینے میں ازدحام سے کام لیں اور اس سے دوسروں کو تکلیف ہو اور وہ ان کے اجر کو ضائع کر دے۔