(۱۲۱۱۸) حدَّثَنَا ہُشَیْمُ بْنُ بَشِیرٍ ، حدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ صُہَیْبٍ البُنَانِی ، عَنِ الْحَسَنِ : قَالَ : مَرَّتْ جِنَازَۃٌ بِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا حَتَّی تَتَابَعَتِ الأَلْسُنُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ ، قَالَ : وَمَرَّتْ بِہِ جِنَازَۃٌ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا شَرًّا حَتَّی تَتَابَعَتِ الأَلْسُنُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ ، فَقَالَ : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ یَا رَسُولَ اللہِ قُلْتَ فِی الْجِنَازَۃِ الأُولَی حَیْثُ أُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا وَجَبَتْ ، وَقُلْتَ فِی الثَّانِیَۃِ کَذَلِکَ ، فَقَالَ : إنَّکُمْ شُہُودُ اللہِ فِی الأَرْضِ مَرَّتَیْنِ ، أَوْ ثَلاَثًا۔
(١٢١١٨) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو تو کسی نے اس کی تعریف بیان کی اس کی دیکھا دیکھی میں کئی اور زبانوں پر بھی اس کی تعریف تھی، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، (پھر ایک دفعہ) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے جنازہ گزرا تو کسی نے اس کی برائی بیان کی اس کی دیکھا دیکھی میں کئی اور زبانوں پر اس کی برائی تھی، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس پر واجب ہوگئی، حضرت عمر بن خطاب نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جب پہلا جنازہ گزرا اور اس کی تعریف کی گئی، تو آپ نے فرمایا واجب ہوگئی، اور دوسرے میں بھی آپ نے فرمایا واجب ہوگئی (کیا واجب ہوئی ؟ ) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو، دو یا تین بار یہ جملہ مبارکہ ارشاد فرمایا۔