(۱۲۱۱۹) حدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَی بْنِ عُبَیْدَۃَ ، عَنْ إیَاسِ بْنِ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : مُرَّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا خَیْرًا ، فَقَالَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ مُرَّ عَلَیْہِ بِجِنَازَۃٍ أُخْرَی فَأُثْنِیَ عَلَیْہَا دُونَ ذَلِکَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَجَبَتْ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ وَمَا وَجَبَتْ ، قَالَ : الْمَلاَئِکَۃُ شُہُودُ اللہِ فِی السَّمَائِ وَأَنْتُمْ شُہُودُ اللہِ فِی الأَرْضِ۔ (طبرانی ۶۲۶۲)
(١٢١١٩) حضرت ایاس بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص کا جنازہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزرا تو اس کی تعریف بیان کی گئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا واجب ہوگئی، پھر ایک جنازہ گذرا تو اس کی برائی بیان کی گئی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : واجب ہوگئی، صحابہ کرام نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا واجب ہوگیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ملائکہ آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں اور تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔