(۱۲۱۴۱) حدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ الْمَقْبُرِیِّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَۃٍ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہَا ، فَقَالَ : عَلَیْہِ دَیْنٌ ؟ قَالُوا : نَعَمْ دِینَارَانِ ، قَالَ : تَرَکَ لَہُمَا وَفَائً ؟ قَالُوا : لاَ ، قَالَ : فَصَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ، قَالَ أَبُو قَتَادَۃَ : ہُمَا عَلَیَّ یَا رَسُولَ اللہِ ، فَصَلَّی عَلَیْہِ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (ترمذی ۱۰۶۹۔ دارمی ۲۵۹۳)
(١٢١٤١) حضرت عبداللہ بن ابو قتادہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک جنازہ لایا گیا، کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا : کیا اس کے ذمہ کسی کا قرض ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جی ہاں دو دینار ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے ادائیگی ہو سکے ؟ عرض کیا کہ نہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کرو، حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! وہ میرے ذمہ ہیں پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ ادا فرمائی۔