(۱۲۱۴۳) حدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ، عَنْ زَائِدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ فَأَتَیْنَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَخَطَا خُطًی ، قَالَ : عَلَیْہِ دَیْنٌ ؟ فقُلْنَا : نَعَمْ عَلَیْہِ دِینَارَانِ ، قَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔ (احمد ۳/۳۳۰۔ بیہقی ۷۵)
(١٢١٤٣) حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا تو ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ ادا فرمائیں، پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں اس کے ذمہ دو دینار ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی ادا کرو۔