hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 12250

.

ابن أبي شيبة

12250
Ibn Abi Shaybah
(۱۲۲۵۱) حدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ ہَاشِمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ عَطَائٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ أَخَذَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَخَرَجَ بِہِ إلَی النَّخْلِ فَأُتِیَ بِإِبْرَاہِیمَ وَہُوَ یَجُودُ بِنَفْسِہِ فَوُضِعَ فِی حَجْرِہِ ، فَقَالَ : یَا بُنَیَّ لاَ أَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہِ شَیْئًا وَذَرَفَتْ عَیْنَاہُ ، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَبْکِی یَا رَسُولَ اللہِ أَوَ لَمْ تَنْہَ عَنِ الْبُکَائِ ، قَالَ : إنَّمَا نَہَیْتُ عَنِ النَّوْحِ ، عَنْ صَوْتَیْنِ أَحْمَقَیْنِ فَاجِرَیْنِ ، صَوْتٍ عِنْدَ نِغمَۃ لَہْوٍ وَلَعِبٍ ، وَمَزَامِیرِ شَیْطَانٍ ، وَصَوْتٍ عِنْدَ مُصِیبَۃٍ ، خَمْشِ وُجُوہٍ ، وَشَقِّ جُیُوبٍ ، وَرَنَّۃِ شَیْطَانٍ ، إنَّمَا ہَذِہِ رَحْمَۃٌ ، وَمَنْ لاَ یَرْحَمْ لاَ یُرْحَمْ ، یَا إبْرَاہِیمَ لَوْلا أَنَّہُ أَمْرٌ حَقٌّ ، وَوَعْدٌ صِدْقٌ ، وَسَبِیلٌ مَأتِیَّۃٌ ، وَأَنَّ أُخْرَانَا سَیََلْحَقَ أُولنَا لَحَزِنَّا عَلَیْک حُزْنًا أَشَدَّ مِنْ ہَذَا ، وَإِنَّا بِکَ لَمَحْزُونُونَ ، تَبْکِی الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلاَ نَقُولُ مَا یُسْخِطُ الرَّبَّ۔
(١٢٢٥١) حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور کھجور کے درختوں کی طرف گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ابراہیم کو لایا گیا وہ اس وقت قریب المرگ تھے، ان کو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گود میں رکھا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بیٹے ! میں تیرے لیے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت عبد الرحمن نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ رو رہے ہیں ؟ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رونے سے منع نہیں کیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے، دو فاجر اور احمق آوازوں سے : نغمہ کے وقت لھو ولعب کی آواز اور شیطان کی بانسری (کی آواز) اور مصیبت کی وقت کی آواز : چہروں کو نوچنا، گریبان چاک کرنا اور شیطان کی طرح زور سے چیخنا، بیشک یہ تو رحمت کے آنسو ہیں، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اے ابراہیم اگر یہ امر حق نہ ہوتا، وعدہ سچا نہ ہوتا اور راستہ اور جہت انجانی نہ ہوتی اور ہمارے آخر والے عنقریب ہمارے پہلوں سے ملنے والے نہ ہوتے تو ہمارا غم تیرے بارے میں اس سے زیادہ ہوتا، اور ہم تیری وجہ سے البتہ غم گین ہیں آنیں ور روتی ہیں اور دل غم گین اور مغموم ہے اور ہم ایسی بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔