(۱۲۲۵۲) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَ ذُکِرَ لَہَا حَدِیثُ ابْنِ عُمَرَ ، إنَّ الْمَیِّتَ لَیُعَذَّبُ بِبُکَائِ الْحَیِّ ، فَقَالَتْ : وَہَلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَمَا وَہَلَ یَوْمَ قَلِیبِ بَدْرٍ إنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّہُ لَیُعَذَّبُ وَإِنَّ أَہْلَہُ لَیَبْکُونَ عَلَیْہِ۔ (احمد ۶/۲۰۹)
(١٢٢٥٢) حضرت عروہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ کے سامنے حضرت عبداللہ بن عمر کی حدیث بیان کی گئی کہ میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا حضرت ابو عبد الرحمن کو اسی طرح غلطی ہوئی ہے جس طرح انھیں بدر کے کنویں کے مقتولوں کے بارے میں غلطی ہوئی تھی۔ بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک میت کو عذاب دیا جا رہا ہوتا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہوتے ہیں۔