(۱۲۲۵۳) حدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وُلِدَ لِی اللَّیْلَۃَ غُلاَمٌ فَسَمَّیْتُہُ بِاسْمِ أَبِی إبْرَاہِیمَ ، قَالَ ، ثُمَّ دَفَعَہُ إلَی أُمِّ سَیْفٍ امْرَأَۃِ قَیْنٍ بِالْمَدِینَۃِ یُقَالُ لَہُ أَبُو سَیْفٍ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُ ، فَصَادَفْنَا أَبَا سَیْفٍ یَنْفُخُ فِی کِیرِہِ ، وَقَدِ امْتَلأَ الْبَیْتُ دُخَانًا ، فَأَسْرَعْت الْمَشْیَ بَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی انْتَہِیَ إلَی أَبِی سَیْفٍ، فَقُلْت: یَا أَبَا سَیْفٍ أَمْسِکْ أَمْسِکْ جَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَمْسَکَ، فَدَعَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالصَّبِیِّ فَضَمَّہُ إلَیْہِ ، وَقَالَ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَقُولَ ، قَالَ أَنَسٌ : فَلَقَدْ رَأَیْتُہُ یَکِیدُ بِنَفْسِہِ ، قَالَ : فَدَمَعَتْ عَیْنَا النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَدْمَعُ الْعَیْنُ وَیَحْزَنُ الْقَلْبُ ، وَلاَ نَقُولُ إِلاَّ مَا یرضی رَبَّنَا وَإِنَّا بِکَ یَا إبْرَاہِیمَ لَمَحْزُونُونَ۔ (مسلم ۶۲۔ ابوداؤد ۳۱۱۸)
(١٢٢٥٣) حضرت انس سے مروی ہے کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : رات میرا بیٹا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام اپنے والد کے نام پر ابراہیم رکھا ہے۔
پھر آپ نے اس کو ام سیف کے پاس دودھ پلانے کے لیے بھیج دیا جو مدینہ کے ابو سیف لوہار کی بیوی تھی۔ پھر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چلا، ہم اچانک ابو سیف کے پاس پہنچے جو اپیا دھونکنی میں پھونک مار رہا تھا جس کی وجہ سے سارے گھر میں دھواں بھرا ہوا تھا، میں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تیز چل کر ابو سیف کے پاس پہنچا اور اس سے کہا : اے ابو سیف رک جا رک جا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے ہیں، تو وہ رک گیا، پھر حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس کو سینے سے لگایا اور کہا جو اللہ نے چاہا، حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے ان (ابراہیم) کو دیکھا کہ وہ نزع کی تکلیف میں مبتلا ہیں، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آنکھیں بہہ رہی ہیں اور دل غم گین ہے اور ہم بات نہیں کریں گے مگر جس سے ہمارا رب راضی ہو اور اے ابراہیم ! ہم تیری وجہ سے بہت غم گین اور مغموم ہیں۔