(۱۲۲۵۶) حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حدَّثَنِی أَبِی ، عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ : حَضَرَہ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَکْرٍ ، وَعُمَرُ یَنْعِی سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَوَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ إنِّی لأَعْرِفُ بُکَائَ عُمَرَ مِنْ بُکَائِ أَبِی بَکْرٍ وَإِنِّی لَفِی حُجْرَتِی ، قَالَتْ : فَکَانُوا کَمَا قَالَ اللَّہُ {رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ} ، قَالَ عَلْقَمَۃُ : أَیْ أُمَّاہُ کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : کَانَتْ عَیْنُہُ لاَ تَدْمَعُ عَلَی أَحَدٍ وَلَکِنَّہُ کَانَ إذَا وَجَدَ فَإِنَّمَا ہُوَ آخِذٌ بِلِحْیَتِہِ۔(احمد ۶/۱۴۱۔ ابن حبان ۶۴۳۹)
(١٢٢٥٦) حضرت علقمہ بن وقاص سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ نے فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر حضرت سعد بن معاذ کے پاس حاضر تھے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے میں پہچان رہی تھی کہ یہ ابوبکر کے رونے کی آواز ہے یہ حضرت عمر کی ہے اور میں اپنے حجرے میں تھی، فرماتی ہیں کہ وہ تو ایسے تھے جیسے اللہ نے فرمایا ہے { رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ } آپس میں رحم دل، حضرت علقمہ نے فرمایا : امی جان حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (غم میں) کیا کرتے تھے ؟ امی عائشہ نے فرمایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی پر (آواز نکال کر نوحہ کے انداز میں) نہیں ب روتے تھے جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی غم پاتے تو اپنی داڑھی مبارک پکڑ لیتے۔