(۱۳۲۴۲) حدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی الْعَلاَئِ بْنِ الشِّخِّیرِ ، قَالَ : خَرَجْتُ مُعْتَمِرًا ، فَلَمَّا کُنْتُ بِبَعْضِ الطَّرِیقِ صُرِعْتُ عَنْ رَاحِلَتِی ، فَانْکَسَرَتْ رِجْلِی ، فَأَرْسَلْتُ إلَی ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ مَنْ یَسْأَلُہُمَا ، فَقَالاَ : إنَّ الْعُمْرَۃَ لَیْسَ لَہَا وَقْتٌ کَوَقْتِ الْحَجِّ ، لاَ یَحِلَّ حَتَّی یَطُوفَ بِالْبَیْتِ ، فَأَقَمْتُ بِالدَّثِیْنۃ خَمْسَۃَ أَشْہُرٍ ، أَوْ ثَمَانیَۃَ أَشْہُرٍ۔
(١٣٢٤٢) حضرت ابو العلاء بن الشخیر فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کے ارادے سے نکلا، میں ابھی راستہ میں ہی تھا کہ میں سواری سے گرپڑا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی، میں نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر کے پاس ایک شخص کو بھیجا جو ان سے دریافت کرے، ان دونوں حضرات نے فرمایا : عمرہ کے لیے حج کی طرح کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اس لیے وہ جب تک طواف نہ کرلے احرام نہ کھولے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں پانچ یا آٹھ ماہ مقام دثنیہ میں ہی رکا رہا۔