(۱۳۲۴۱) حدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَارَۃَ بْنِ عُمَیْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : خَرَجْنَا عُمَّارًا حَتَّی إذَا کُنَّا بِذَاتِ الشُّقُوقِ ، لُدِغَ صَاحِبٌ لَنَا ، فَاعْتَرَضْنَا الطَّرِیقَ نَسْأَلَ مَا نصنعُ بِہِ ؟ فَإِذَا ابْنُ مَسْعُودٍ فِی رَکْبٍ ، فَقُلْنَا : لُدِغَ صَاحِبٌ لَنَا ؟ فَقَالَ : اجْعَلُوا بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ صَاحِبِکُمْ یَوْمَ أَمَارَۃٍ ، وَلْیُرْسِلْ بِالْہَدْیِ ، فَإِذَا نُحِرَ الْہَدْیُ فَلْیُحِلَّ ، وَعَلَیْہِ الْعُمْرَۃُ۔
(١٣٢٤١) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عمار کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے نکلے جب ہم ذات الشقوق جگہ پر پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا، ہم نے راستہ میں کسی ایسے شخص کو تلاش کرنا شروع کردیا جس سے اس کے متعلق دریافت کریں کہ اب اس کا کیا کریں ؟ اچانک ہم نے دیکھا کہ حضرت ابن مسعود بھی قافلے میں ہیں، ہم نے عرض کیا ہمارے ساتھی کو سانپ نے ڈس لیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اپنے اور اپنے ساتھی کے درمیان کوئی دن خاص کرلو اور اس کی طرف سے قربانی کا جانور بھیجو، جب وہ جانور قربان ہوجائے تو وہ شخص اس دن حلال ہوجائے اس پر اس عمرہ کی قضاء ہے۔