(۱۳۵۲۶) حدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَیْرٍ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ، قَالَ : رَمَیْتُ الْجِمَارَ فَلَمْ أَدْرِ بِکَمْ رَمَیْتُ ؟ فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ فَلَمْ یُجِبْنِی ، فَمَرَّ بِی ابْنُ الْحَنَفِیَّۃِ فَسَأَلْتُہُ ؟ فَقَالَ : یَا عَبْدَ اللہِ ، لَیْسَ شَیْئٌ أَعْظَمَ عَلَیْنَا مِنَ الصَّلاَۃِ ، وَإِذَا نَسِیَ أَحَدُنَا أَعَادَ ، فَأَخْبَرْتُ ابْنَ عُمَرَ ، فَقَالَ : إنَّہُمْ أَہْلُ بَیْتٍ مُفَہَّمُونَ۔
(١٣٥٢٦) حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں جمرات کی رمی کے دوران بھول گیا کہ میں نے کتنی رمی کی ہے، میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا تو آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، پھر میرے پاس سے حضرت ابن الحنفیہ گذرے تو میں نے ان سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اے عبداللہ ! ہمارے نزدیک نماز سے معظم کوئی شیء نہیں ہے جب ہم میں سے کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو وہ نماز کا اعادہ کرتا ہے، حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر کو اس جواب کی خبر دی تو آپ نے فرمایا : بیشک وہ اہل بیت میں سے ہیں امور صحیح طور پر ان کو سمجھائے گئے ہیں۔